A joint media project of the global news agency Inter Press Service (IPS) and the lay Buddhist network Soka Gakkai International (SGI) aimed to promote a vision of global citizenship which has the potentiality to confront the global challenges calling for global solutions, by providing in-depth news and analyses from around the world.

Please note that this website is part of a project that has been successfully concluded on 31 March 2016.

Please visit our project: SDGs for All

Increasing Importance of Education for Global Citizenship - Urdu

عالمی شہریت کے لیے تعلیم کی بڑھتی ہوئی اہمیت

از جیا راما چندرن

نیو یارک (آئی ڈی این) – جب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل، بان کی مُون، نے ستمبر 2012 میں سب سے عالمی تعلیم کے اقدامات شروع کیے، ’’عالمی شہریت کی حوصلہ افزائی کرنا‘‘ ان کی تین ترجیحات میں سے ایک ترجیح تھی، جب کہ باقی ’’ہر بچے کو سکول بھیجنا‘‘ اور ’’معیارِ تعلیم بہتر کرنا‘‘ تھیں۔

بان نے کہا: ’’تعلیم، جاب مارکیٹ میں داخل ہو جانے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اس میں مستحکم مستقبل اور بہتر دنیا تشکیل دینے کی صلاحیت ہے۔ تعلیمی پالیسیوں کو امن، باہمی عزت و احترام اور ماحولیاتی دیکھ بھال کو فروغ دینا چاہیے۔‘‘

جیسے جیسے عالمی برادری بعد از 2015 کے ترقیاتی ایجنڈا، جسے عمومًا مستحکم ترقیاتی مقاصد ( Sustainable Development Goals) کے نام سے جانا جاتا ہے، کی طرف پیش رفت کر رہی ہے، عالمی شہریت کی ضرورت میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔

کیوں کہ اس سیارۂِ زمیں اور اس کے مکینوں کو متاثر کرنے والے کوئی بھی مقاصد لوگوں اور دنیا بھر کی حکومتوں، جو ذاتی متعصبانہ دلچسپیوں سے ماورا ہو کر اس سیارے کی دلچسپیوں کے لیے کام کر رہی ہیں، کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے۔

مستحکم ترقیاتی مقاصد پر جون 2012 میں برازیل میں ہونے والی اقوامِ متحدہ کی کانفرنس میں یہ تہیہ کیا گیا کہ مستحکم ترقیاتی مقاصد اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ایجنڈا سے مطابقت رکھتے ہوں گے اور 2015 کے بعد بھی عالمی فلاح کے لیے اس میں شامل کیے جائیں گے۔

رِیو آؤٹ کم ڈاکیومنٹ سے قائم ہونے والا اوپن ورکنگ گروپ بھی اسی دوران 17 مقاصد اور 169 اہداف سے اتفاق کر گیا ہے۔ اس گروپ کے مقاصد غربت مٹانا، پیداوار اور خرچ کے غیر مستحکم طریقوں کو مستحکم طریقوں سے بدلنا اور معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے بنیادی قدرتی ذرائع کا بندوبست کرنا ہے۔

مستحکم ترقی کے لیے یہ مقاصد بہت ہی متاثر کن اور لزومات میں شمار ہوتے ہیں، جیسا کہ بان کی ’’تجزیاتی رپورٹ‘‘ 2030 تک عظمت کی جانب سفر، مجریہ 4 دسمبر، 2014 میں وضاحت کی گئی ہے۔

بان نے چھ مربوط لازمی عناصر کی رائے دی ہے جو ایک ساتھ 25 سے 27 ستمبر کو مستحکم ترقی پر ہونے والی خصوصی کانفرنس سے پہلے رکن ممالک کو غور و خوض میں مدد دیں گے، اور انہیں اس قابل بنائیں گے کہ رِیو کانفرنس سے تشکیل پانے والے جامع اور بہت امید افزا ایجنڈے پر بات کر سکیں۔

یہ چھ عناصر ہیں: (1) غربت کا خاتمہ کرنا اور عدمِ مساوات کا مقابلہ کرنا؛ (2) صحتمند زندگیوں، علم، اور بچوں اور خواتین کی شمولیت یقینی بنانا؛ (3) مضبوط، سب کے لیے یکساں مفید، اور مسلسل متنوع ترقی کرنا؛ (4) ہمارے ماحولیاتی نظام کو تمام معاشروں اور ہمارے بچوں کے لیے محفوظ بنانا؛ (5) محفوظ و پر امن معاشرے، اور مضبوظ اداروں کو فروغ دینا؛ اور (6) مستحکم ترقی کے لیے عالمی استحکام کے عمل کو تیز تر کرنا۔

مستحکم ترقی بعداز 2015 کے مجوزہ ایجنڈے میں تعلیم برائے مستحکم ترقی ( Education for Sustainable Development) اور، معنوی طور پر، تعلیم برائے عالمی شہریت، انتہائی اہم عنصر ہے۔

مجوزہ مقصد نمبر 4 (بعد از 2015 تعلیمی مقصد) کا ہدف ’’مشترکہ اور مساوی تعلیم یقینی بنانا اور سب کے لیے زندگی بھر میں مفید تعلیمی مواقع کو فروغ دینا‘‘ ہے۔ جب کہ مجوزہ مقصد 12 کا ہدف ’’مستحکم خرچ اور پیداوار کے طریقے یقینی بنانا‘‘ ہے؛ جب کہ مقصد 13 ’’ماحولیاتی تبدیلیوں اور اس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے‘‘ کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

تعلیم برائے مستحکم ترقی (اور تعلیم برائے عالمی شہریت) مندرجہ ذیل مقاصد کے حصول کے لیے مجوزہ تینوں اہداف میں شامل کی گئی ہے:

- اول، ’’2030 تک اس بات کو یقینی بنانا کہ تمام طلبا و طالبات مستحکم ترقی کو فروغ دینے کے لیے ضروری علم اور مہارتیں حاصل کر لیں، جب کہ تعلیم برائے مستحکم ترقی و مستحکم طرزِ زندگی کے ساتھ ساتھ اس میں انسانی حقوق، جنس کی برابری، پرامن اور غیر متشدد ثقافت کا فروغ، اور مستحکم ترقی میں ثقافتی تنوع اور ثقافتی شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا بھی شامل ہیں۔‘‘

- تعلیم برائے مستحکم ترقی سے متعلق دوسرا ہدف تجویز کرتا ہے کہ 2030 تک ’’اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فطرت سے ہم آہنگ رہ کر مستحکم ترقی کے لیے لوگوں کو ہر جگہ متعلقہ معلومات اور آگاہی میسر ہو‘‘۔

- اور آخر میں ایک تیسرا ہدف تجویز کرتا ہے کہ ’’تعلیم بہتر کی جائے، ماحولیاتی تبدیلیوں میں کمی، ماحول سے مطابقت، اثرات میں کمی، اور ان سے قبل از وقت تنبیہہ کے لیے انسانی اور ادارہ جاتی آگاہی بڑھائی جائے‘‘ تاکہ ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کیا جا سکے۔

اس تجزیہ، جو عالمی کانفرنس برائے تعلیم برائے مستحکم ترقی کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے، سے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ سوکا گاکائی انٹرنیشنل کے صدر ڈائی ساکُو نے ان تین اہم عناصر کو عالمی شہریت کے تعلیمی پروگرام کی بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے۔

پہلے ہی جون 1996 میں، ٹیچرز کالج، کولمبیا یونیورسٹی میں ایک لیکچر میں، اکیڈا نے عالمی شہریت کے لیے مندرجہ عناصر لازمی گنوائے:

- تمام تر زندگی اور زندگی گزارنے کا باہمی تعلق سمجھنے کے لیے بصیرت
- اختلاف سے نہ ڈرنے اور اس کا انکار نہ کرنے کا حوصلہ؛ لیکن مختلف ثقافتوں کو عزت دینا اور انہیں سمجھنے کی کوشش کرنا، اور ان سے میل ملاقات کے دوران ترقی کرتے رہنا
- ایسی ذہنی ہمدردی قائم رکھنا جو آپ کے گردوپیش سے بے نیاز ہو اور دوردراز مصیبت میں مبتلا لوگوں کے لیے ہو۔

انہوں نے اپنی امن تجاویز 2014 کے دوران کہا کہ عالمی شہریت کی تعلیم میں مندرجہ ذیل شامل ہوں:
- انسانیت کو پیش چیلنجز کا فہم بڑھے، لوگوں کو ان کی وجوہات جاننے کے قابل بنائے اور لوگوں کو یہ امید اور اعتماد دے کہ چونکہ ان کا منبع انسان ہیں، اس لیے انسان ان چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں؛
- کسی بھی مقامی مظہر میں وہ درپیش آنے والے عالمی مسائل کی علامات کو پہچان سکیں، ان علامات کے لیے حساسیت پیدا کریں، اور لوگوں میں اتنی قوت پیدا کرے کہ کہ وہ وہ منظم کارروائی کر سکیں؛ اور
- ایسے ہمدردانہ خیالات اور وسیع آگاہی کو فروغ دیا جائے کہ ایسے کام جو کسی کے اپنے ملک کے مفاد میں ہوں، دوسرے ملک پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں یا دوسرے ممالک اپنے لیے انہیں خطرہ سمجھ سکتے ہیں، نیز یہ کہ یہ کسی ایسے معاہدے پر منتج ہوں جس میں کسی دوسرے کا نقصان کر کے اپنا فائدہ اور خوشحالی حاصل نہ کی جائے۔

نومبر 2014 میں ایچی-نگویا، جاپان میں ہونے والی ایچی-نگویا کانفرنس میں عالمی اقدامات منصوبہ ( Global Action Programme) برائے تعلیم برائے مستحکم ترقی پیش کیا گیا جس میں اس زمین پر اقدامات پر توجہ دی گئی۔

عالمی اقدامات منصوبہ اور ورلڈ کانفرنس کے باقی نتائج سے عالمی تعلیمی فورم جو 19 سے 22 مئی 2015 تک انچان، جنوبی کوریا میں جاری رہے گا کو آگاہ کرے گا۔ اس کا مقصد بعد از 2015 نئے تعلیمی ایجنڈا کے بارے کسی متفقہ فیصلے تک پہنچنا ہے اور آنے والے سالوں کے لیے عالمی لائحۂِ عمل تشکیل دینا ہے۔ [آئی ڈی این- اِن ڈیپتھ نیوز – 28 دسمبر، 2014]